Showing posts with label Girlfriend. Show all posts
Showing posts with label Girlfriend. Show all posts

Albeli, Deewani

اچانک کلاس روم کا دروازہ کھلا اور زرینہ داخل ہوئی۔ ٹیچر نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑ کر ناخوشگوار انداز میں اُس کی طرف دیکھا مگر کچھ کہا نہیں اور سر کے اشارے سے اسے اندر آنے کی اجازت دی۔ نرمل نے زرینہ پر نظر ڈالی۔ یونی ورسٹی میں داخلے کو ایک ماہ سے زائدہوچکا تھا مگر زرینہ اب تک یونی ورسٹی میں اپنے پہلے دن کی طرح تھی۔ اپنے آپ میں گم رہنے والی، نسبتاً کم گو، سنجیدہ طبع اور سادہ۔ اُس نے گلابی رنگ کی کاٹن قمیص اور آسمانی رنگ کی شلوار پہن رکھی تھی جو اُس پر جچ رہی تھی۔ نرمل اُس سے کافی مختلف تھی۔ ہنس مکھ اور ہر محفل میں گھل مل جانے والی۔ وہ ایک کام یاب بزنس مین کی اکلوتی بیٹی تھی اور اُس کی ہر ادا سے امارت جھلکتی تھی۔ اُس کا لباس عموماً آدھی آستین یا بغیر آستین کی چھوٹی قمیص یا شرٹ اور ٹائٹس یا جینز ہوتے تھے۔ اُس دن بھی اُس نے چست جینز اور سفید رنگ کی ڈھیلی ڈھالی شرٹ پہن رکھی تھی اور اُس کے کاندھوں کے پاس سے اُس کے جسم کو کسنے والی سیاہ ڈوریاں واضح تھیں؛ جن کی نرمل کو کبھی پرواہ نہیں رہی تھی۔
زرینہ خاموشی سے کلاس میں داخل ہوئی اور خالی کرسی کی تلاش میں نظریں دوڑاتی ہوئی آخرکار نرمل کے برابر میں آکر بیٹھ گئی۔ نرمل نے چیونگم چباتے ہوئے کن انکھیوں سے زرینہ کا جائزہ لیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ وہ دونوں ایک ساتھ بیٹھے تھے۔ زرینہ کے نقوش اچھے تھے اور معمولی سی سانولی رنگت ہونے کے باوجود وہ خوب صورت لگتی تھی۔ اُس کا جسم خاصا پُرکشش تھا۔ اُس کے سینے پر اگرچہ دوپٹا تھا لیکن وہ اُس کی جوانی چھپانے میں ناکام تھا۔ چست قمیص اُس کے سینے کے بھرپور اُبھار سے چپکی ہوئی تھی۔ یک دم نرمل کا جی کیا کہ وہ زرینہ کے سینے پر ہاتھ پھیرے۔ اُس کے جذبات جاگ گئے۔ اُسے یاد آیا کہ کس طرح وہ بہانے بہانے سے اپنی سہیلیوں اور کزنز سے گلے لگتی تھی اور اُن کے سینے پر ہاتھ لگانے کی کوشش کرتی تھی تاکہ اُن کے نشیب و فراز کو محسوس کرے۔ اُسے اکثر حیرت ہوتی تھی کہ اُس کا دل لڑکوں سے زیادہ لڑکیوں کی طرف مائل ہوتا تھا۔ وہ جب کوئی رومانوی فلم دیکھتی تو اُس کا دل چاہتا کہ وہ اپنی کسی سہیلی کے ساتھ ہو، اُس سے لپٹ جائے اور اُسے پیار کرے۔ نرمل نے اُس وقت سوچ لیا کہ وہ زرینہ سے دوستی کرکے رہے گی۔
زرینہ سے دوستی کرنا کچھ مشکل ثابت نہ ہوا۔ وہ بھی ایک عام سی ہی لڑکی تھی۔ اُسے اچھا لگا کہ اُس سے کسی نے از خود دوستی کی ہے۔ دونوں یونی ورسٹی سے گھر جانے کے بعد بھی اکثر موبائل پر رابطے میں رہتیں۔ لیکن اتنی زیادہ گفت گو ہوجانے کے باوجود ابھی تک نرمل میں ہمت نہیں ہوسکی تھی کہ وہ جسمانی طور پر زرینہ کے انتہائی قریب ہوسکے۔ پھر ایک دن اُسے موقع مل ہی گیا۔
سینئر طلبہ کی جانب سے نئے آنے والے طلبہ کو خوش آمدید کہنے کے لیے ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اُس دن سادہ نظر آنے والی لڑکیاں بھی ایسی تیاری سے آئی تھیں کہ کسی فیشن شو کا گمان ہوتا تھا۔ نرمل نے نیٹ کی سرخ قمیص پہنی جو اُس کے گھٹنوں سے کافی اوپر تھی، ساتھ میں سفید ٹائٹس پہنے جو اُس کی ٹانگوں سے چپکے ہوئے تھے۔ نیٹ کی قمیص سے اُس کا سرخ بریزر ہی نہیں، جسم کا اُبھار بھی محسوس کیا جاسکتا تھا۔ اُس کے ہال پہنچنے کے تھوڑی ہی دیر بعد زرینہ بھی پہنچ گئی۔ اُس کی تیاری دیکھ کر نرمل کے جذبات بھرپور انگڑائی لے کر جاگ اُٹھے۔ زرینہ نے برائے نام آستین کی فراک اور ٹائٹس پہنے ہوئے تھے۔ دونوں سہیلیاں ایک دوسرے سے گلے ملیں تو نرمل نے زرینہ کا سیاہ بریزر دیکھ لیا۔ اُس کا جی چاہا کہ زرینہ کے گال کو چومنے کے ساتھ ساتھ اُس کے کاندھوں کو بھی بوسہ دے۔
تقریب کی تیاریاں لاجواب تھیں۔ سبھی طلبہ لطف اندوز ہوئے لیکن نرمل کا لطف اندوز ہونا باقی سب سے مختلف تھا۔ وہ زیادہ تر وقت زرینہ کا ہاتھ تھامے رہی۔ اُسے کسی ایسی جگہ کا انتظار تھا جہاں کوئی اُنھیں نہ دیکھ پائے۔ تقریب کے درمیان میں دونوں میک اپ ٹھیک کرنے واش روم کی طرف گئے اور وہیں نرمل کو تنہائی میسر آگئی۔
"یہ تم نے سلک کا برا پہنا ہے نا؟" نرمل نے اپنے بے قابو جذبات کو چھپاتے ہوئے عام سے انداز میں پوچھا۔
"ہاں!" زرینہ نے آئینے میں دیکھتے ہوئے مختصر سا جواب دیا۔
"ذرا دیکھنے دو مجھے ہاتھ لگاکر۔" نرمل اپنے مطلب کی بات پر آگئی۔
"کیا؟ کیوں؟" زرینہ اس خلافِ متوقع بات سے گھبراگئی۔
"ارے جان! میں بھی ایسا ہی لینے کا سوچ رہی ہوں نا۔ ہاتھ لگاکر اندازہ کرنے دو۔" نرمل نے یہ کہہ کر زرینہ کی فراک میں ہاتھ ڈالا اور بلا توقف اُس کے بریزر پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ زرینہ کو یہ صورتِ حال سمجھنے میں تھوڑا وقت لگا۔ جب تک نرمل اُس کے بریزر پر ہاتھ پھیرنے کے ساتھ ساتھ اُس کے سینے کو دبانے کا شوق پورا کرچکی تھی۔
"اچھا لگ رہا ہے۔" نرمل نے ایسے کہا جیسے زرینہ کے تاثرات اُس نے محسوس ہی نہیں کیے ہوں۔
باقی وقت نرمل نارمل رہی۔ زرینہ بھی کچھ دیر تک اُس واقعے کے بارے میں سوچتی رہی اور پھر نظرانداز کردیا۔ پھر نرمل نے معمول بنالیا۔ وہ بہانے بہانے سے زرینہ کو چھوتی، اُس سے لپٹتی، موبائل پر جنسی لطیفے اور ذومعنی پیغامات بھیجتی۔ زرینہ کو بھی ان سب باتوں کی عادت ہوتی گئی۔
اُس شام نرمل کے گھر والے ایک تقریب میں گئے ہوئے تھے۔ نرمل یونی ورسٹی سے واپسی پر زرینہ کو ساتھ لے کر گھر آگئی۔ تنہائی میسر آئی تو نرمل کے جذبات کا طوفان امنڈ پڑا۔ اُس نے زرینہ کے ہونٹوں کو اچانک سے چوم لیا۔
"پاگل ہوگئی ہو کیا؟" زرینہ نے کہا۔
"ہاں جان! تمہارے حسن نے تو واقعی مجھے پاگل ہی کرکے رکھ دیا ہے۔" نرمل نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اظہار کردیا اور اُس سے لپٹ گئی۔
زرینہ نے ابتدا میں تو معمولی سی مزاحمت کی لیکن جیسے جیسے نرمل کے کومل ہاتھوں نے زرینہ کے جسم کا سفر شروع کیا، زرینہ کی مزاحمت ٹھنڈی پڑتی گئی۔ پھر نرمل نے دونوں ہاتھ زرینہ کی قمیص میں ڈالے اور اُسے اتار دیا۔ زرینہ حیرت میں گُم اُسے دیکھتی رہی لیکن نرمل نے اُس کی طرف توجہ نہیں کی۔ اُس کی نظریں تو زرینہ کے سرخ بریزر پر جمی ہوئی تھی جس نے زرینہ کی بھرپور جوانی کو قید کر رکھا تھا۔ اُس نے چند ہی لمحے اس رکاوٹ کو گوارا کیا اور پھر ایک جھٹکے سے اُسے بھی دور کردیا۔ زرینہ کے ان دو رس بھرے پھلوں کو چوسنے کا الگ ہی لطف تھا جس نے نرمل کا نشہ بڑھا دیا۔ اور یہی وہ عمل تھا جس نے زرینہ کے جذبات بھی حقیقی معنوں میں جگادیے۔ اُسے احساس ہوا کہ اُس کا اوپری جسم اب مکمل عریاں ہے لیکن نرمل مکمل لباس میں ہے۔ اُس نے بھی نرمل کی قمیص اُتاردی۔ نرمل کو خوش گوار احساس ہوا۔ اُس نے گلابی رنگ کا چھوٹا سا بریزر پہنا ہوا تھا جو اُس کے گورے جسم پر خوب جچ رہا تھا۔  دو جسم ایک ہونے لگے۔ ایک دوسرے میں سمانے لگے۔
پھر دونوں پریمیوں کا ہاتھ ایک ہی ساتھ دوسرے کی شلوار میں داخل ہوا اور اُس وقت دونوں کو احساس ہوا کہ وہ دونوں پیار کی بارش میں بھیگ چکے ہیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کے جسم کو بھرپور ٹٹولا، صرف بیرونی ہی نہیں، اندرونی بھی۔
نرمل نے زرینہ کی ٹانگوں کے بیچ میں ہاتھ پھیرتے پھیرتے جب آہستہ سے ایک انگلی اُس کے جسم میں داخل کی تو زرینہ کی سسکاری نکل گئی۔ اُسے اچانک تکلیف کا احساس ہوا لیکن وہ کچھ بولی نہیں۔ نرمل کی اُنگلی مزید اندر جانے لگی۔ درد کا احساس بڑھ رہا تھا۔ نرمل نے انگلی ایک جگہ لے جاکر روک دی۔ پھر آرام سے انگلی پیچھے کی اور ایک جھٹکے سے پوری اندر داخل کردی۔
"آااہ! نہیں نرمل، نہیں!" زرینہ چیخ پڑی۔ لیکن نرمل نہیں رکی۔ زرینہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اُسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی لیکن نرمل کسی رکاوٹ کو خاطر میں لانے کے موڈ میں نہیں تھی۔ اُس کی مستی نے اسے ہر چیز سے بے گانہ کردیا تھا۔ اُس کی انگلی تیزی سے اندر باہر ہونے لگی۔ اُس کے ہونٹ زرینہ کی چھاتیوں کو چوم رہے تھے۔ زرینہ کی تکلیف جوں جوں کم ہوتی گئی، وہ ایک بار پھر مدہوش ہونے لگی۔ اور اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نرمل نے ایک اور انگلی اندر داخل کردی۔ زرینہ کی سسکاریوں اور نرمل کے بوسوں کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ اچانک زرینہ کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے اُس کے جسم سے کچھ نکلنے والا ہے اور پھر  پیار کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا۔
اب نرمل کی باری تھی۔ زرینہ اُس کے اوپر آگئی اور اُس کی محبت کا بھرپور صلہ دینے لگی۔ آدھ گھنٹا گزرنے کے بعد دونوں کی سانسیں پھول چکی تھیں۔ وہ پانچ منٹ تک سدھ لیٹے رہے۔ پھر ایک ساتھ غسل خانے میں گھس گئے۔ شاور کے ٹھنڈے پانی کو دو لپٹے ہوئے جسموں کے درمیان راستہ بنانے میں خاصی مشکل پیش آئی لیکن نئی نئی محبت کے نشے نے اُنھیں ہر چیز سے لاپرواہ کردیا تھا۔

Woh Tera Mera Milna

سدرہ جس طرح اُس کی زندگی سے اچانک گئی تھی، اُسی طرح اچانک واپس چلی آئی۔ وہ دونوں اسکول میں دو سال تک ایک ہی جماعت میں رہے تھے اور دونوں کی آپس میں بات چیت نہ بہت زیادہ تھی اور نہ بہت کم۔ لیکن جس قدر بھی تعلق تھا، وہ عمومی نوعیت کا تھا۔ اُس میں ذاتی نوعیت کا تو شائبہ تک نہیں تھا، خصوصاً رومی کی جانب سے۔ سدرہ کے انداز میں اکثر گرم جوشی کچھ زیادہ ہوتی لیکن رومی کے ذہن میں کوئی دوسری بات نہیں تھی۔
اسکول کے دِنوں میں سدرہ باقی لڑکیوں سے خاصی مختلف تھی۔ چھوٹے بال کندھوں کو چھوتے ہوئے، بھرا بھرا فربہ جسم، بھولی سی مسکراہٹ اور آنکھوں میں غیر معمولی چمک۔ اُس کے رکھ رکھاؤ سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کسی اچھے گھر کی لڑکی ہے۔
اور پھر اسکول ختم ہوا تو تعلقات بھی جیسے ختم ہوگئے۔ کچھ عرصے بعد سب ایک دوسرے کو بھول بھال گئے۔ دو سال بعد ایک دن رومی کے پاس سدرہ کا فون آگیا۔ اور پھر ٹیلی فونک رابطوں کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔ اب کی بار اس تعلق کی نوعیت عمومی نہیں، کافی ذاتی تھی۔ وہ دونوں گھنٹوں ایک دوسرے سے فون پر باتیں کرتے، بے مقصد باتیں۔ دن بھر کے معمولات، پرانی یادیں، پسند ناپسند۔۔۔ اور کتنے ہی ایسے موضوعات جو بات جاری رکھنے کا بہانا بنانے کے لیے بارہا دہرائے جاتے۔ فاصلے سمٹنے لگے۔دِلوں کے درمیان فاصلہ عجیب نوعیت کا ہوتا ہے۔ بڑھنے پر آئے تو پل بھر میں بہت طویل ہوجاتا ہے، اور گھٹنے پر آئے تو یک دم سمٹ جاتا ہے۔ یوں، رومی اور سدرہ بھی اتنی تیزی سے قریب آئے کہ اُنھیں سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا۔ اور اس راہ میں سنبھلنے کے مواقع ملیں بھی تو کون اُن سے فائدہ اُٹھانا چاہتا ہے۔ کچھ ہی دِنوں میں بات اظہارِ محبت اور پھر انتہائی محبت تک جاپہنچی۔ گفت گو کا ذریعہ اگرچہ فون تک محدود تھا لیکن بات فون سے کہیں آگے نکل چکی تھی۔ جب وہ دو آوازیں ایک دوسرے کی سماعت سے ٹکراتیں تو جسم میں برقی رو سی دوڑ جاتی۔ ایک عجیب گرمائش کا احساس ہوتا۔
اور پھر ایک شام سدرہ نے ملاقات کی پیش کش کردی۔ وہ صرف ملاقات کی پیش کش نہیں تھی، بل کہ ساتھ ہی یہ اطلاع کہ گھر میں کوئی نہیں ہے، اپنے اندر بہت سے معانی سموئے تھی۔ ان پوشیدہ معانی کے خیال نے رومی کو اندر تک لرزادیا۔
رومی جلدی سے تیار ہوکر سدرہ کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ دو جسموں کے درمیان فاصلہ گھٹنے کا وقت آپہنچا تھا۔ سدرہ کا گھر ڈھونڈنے میں اُسے کوئی خاص مشکل نہیں ہوئی۔ علاقہ اُس کا جانا پہچانا تھا۔ وہ اُسے دروازے ہی پر کھڑی مل گئی۔ رومی کو دیکھتے ہی اُس کا چہرہ کھل اُٹھا۔ سدرہ نے پیلے رنگ کی باریک قمیص اور چوڑی دار پاجامہ پہنا ہوا تھا۔ انتہائی تنگ اور چست قمیص نے اُس کے جسم کے نشیب و فراز خاصے واضح کردیے تھے۔ رہی سہی کسر اُس کا کھلا گریبان پوری کررہا تھا جس سے اس بھرپور جسم میں موجود جنت کا معمولی سا نظارا واضح تھا۔ سدرہ گھر میں داخل ہونے کے لیے مڑی تو اُس کی پشت نے رومی کے اندر مکمل آگ بھڑکادی۔ باریک پیلی قمیص کے ساتھ اُس کا سیاہ بریزر قیامت خیز امتزاج پیش کررہا تھا۔ رومی کا دل کیا کہ آگے بڑھے اور اسی وقت اس بھرے ہوئے جسم کو اپنی خالی بانہوں میں بھرلے۔
گھر میں خاموشی چھائی تھی لیکن رومی کے دل میں ایک ہنگاما برپا تھا۔ سدرہ نے اُسے اپنے بیڈروم میں بٹھادیا۔ دونوں باتیں کرنے لگے۔ اِدھر اُدھر کی باتیں۔۔۔ دوبدو  دل کی باتیں کرنے میں جھجک محسوس ہوتی تھی۔ پھر اچانک سدرہ نے رومی کا ہاتھ پکڑلیا اور یہ جیسے جذبات کی ٹرین کا بھرپور انداز میں اپنی آمد کا اعلان تھا۔ وہ سرک کر سدرہ کے قریب آیا اور اُس کی کمر پر عین بریزر کے اوپر ہاتھ رکھ دیا۔ سدرہ اپنی بات ادھوری چھوڑ کر ایک دم گُم صُم ہوگئی۔ رومی اُس کی کمر سہلارہا تھا۔اور سدرہ اُس کے بہکتے ہوئے ہاتھ کی منزل کا بہ آسانی اندازہ کرسکتی تھی۔ پھر وہ ہاتھ آگے بڑھا اور سدرہ کے نشیب و فراز ناپنے لگا۔ سدرہ کی سانسوں میں ایک سسکار تھی۔ ایک پکار تھی۔
سدرہ پوری طرح رومی کی طرف مڑگئی۔ اُس کا دوپٹا سینے سے ڈھلک چکا تھا لیکن اُسے اب ہوش نہیں تھا۔ فون پر گفت گو فاصلوں کو اس قدر سمیٹ چکی تھی کہ اب حقیقت میں مزاحمت کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی تھی۔ رومی نے جھک کر گردن کو چوما، پھر ذرا سا نیچے گریبان کے پاس چوما، اور پھر اُس سے بھی نیچے سینے کو۔۔۔ رومی میں اس  نئی دنیا کھوجنے کی تڑپ کسی بھی سیاح سے بڑھ کر تھی۔
"رومی! قمیص اتار دو۔" سدرہ نے رومی کی کھوج کو آسان بنانے کی از خود پیش کش کرڈالی اور رومی نے اُس کی بات پر ایسے عمل کیا جیسے وہ ہپناٹائز ہوچکا ہو۔ سیاہ بریزر میں سدرہ کا بھرپور گورا جسم رومی کے جذبات کو انتہائی بلندی پر لے گیا۔ وہ دیوانوں کی طرح اُسے چومنے اور اُس پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ پھر اُس نے ہمت کی اور ہاتھ پیچھے کرکے بریزر کھول دیا۔ دو گلابی نشانوں نے اُسے ایسا بپھرا ہوا شیر بنادیا تھا جس پر قابو پانا خود اُس کے بس میں بھی نہیں تھا۔ وہ اب سدرہ کے جسم کو چوم نہیں، چوس رہا تھا۔ اور سدرہ نے دونوں ہاتھوں سے اُس کا سر اپنے سینے پر دبایا ہوا تھا۔
پھر سدرہ کے ہاتھ حرکت میں آئے اور بے قراری سے رومی کی شرٹ کے بٹن کھولنے لگے۔رومی کی شرٹ اتری تو سدرہ کا نشہ بھی عروج پر پہنچ گیا۔ رومی نے اُسے بانہوں میں بھرا اور بستر پر سیدھا لٹادیا۔ اُس کے بعد سدرہ کا پاجامہ اور رومی کی پینٹ کو جسم سے دور ہونے میں ایک منٹ سے بھی کم لگا۔ حالانکہ سدرہ کے چوڑی دار پاجامے کو اُتارنے میں رومی کو اتنی مشکل ہوئی کہ اس کا دل پاجامہ تار تار کردینے کو کیا۔ وہ دونوں اب دنیا و مافیہا سے بے خبر ایک دوسرے میں گم تھے۔ صرف اُن کی پھولی ہوئی سانسیں تھیں جو پورے کمرے میں سنائی دے رہی تھیں۔ سدرہ نے آنکھیں بند کرلیں۔ یہ اشارہ تھا کہ اب سب کچھ تمھارے ہی حوالے ہے رومی۔ اور رومی اس پیغام سے اچھی طرح واقف تھا۔
"تیل کہاں ہے؟" رومی نے سوال کیا۔
"کیوں؟" سدرہ نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔ اُسے یہ سوال انتہائی غیرمتوقع لگا۔ اور سدرہ کے جوابی سوال کا رومی کے پاس کوئی واضح جواب نہیں تھا۔ یا یوں کہیے کہ اُس کے پاس جواب کے لیے مناسب الفاظ نہیں تھے۔
"ارے جان! بس چاہیے ہے نا۔ تم بتاؤ، کہاں رکھا ہے؟"
"اُدھر کونے میں، میز پر۔" سدرہ نے ایک اُلجھن کے ساتھ اشارہ کیا۔ یہ وہ بات تھی جو کبھی اُن کے درمیان فون پر نہیں ہوئی تھی۔
رومی چیتے کی سی پھرتی سے میز کی طرف لپکا اور تیل کی بوتل اُٹھاکر واپس اپنی جنت کی طرف بڑھا۔ اُس نے سدرہ کی دونوں ٹانگیں کھولیں اور تیل ٹپکایا۔ اب گیلے پن کے ساتھ چکناہٹ بھی شامل ہوچکی تھی جس نے آگے کا کام آسان کرنا تھا۔ رومی نے اپنے آلے پر بھی تیل لگایا اور پھر انتہائی وصل کے لیے بے حد قریب آگیا۔ایک انوکھے تجربے کے احساس کی سردی اور جذبات کی گرمی کی آمیزش نے اُن دونوں کو ہر چیز سے لاتعلق کردیا تھا۔ بس دونوں کے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ آج سب کچھ ہوجانے دو۔ اور وہ سب کچھ ہوگیا۔ رومی، سدرہ کے اندر داخل ہوا تو درد کے مارے اُس کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ اُس نے ایک آہ بھری۔ "رومی! آرام سے۔۔۔ درد ہورہا ہے۔"
لیکن اس پیغام کا اثر بالکل برعکس ہوا اور اس نے رومی کی رفتار سست کرنے کے بجائے مزید بڑھا دی۔ اُس کے دونوں ہاتھ سدرہ کے سینے کو دبا رہے تھے اور وہ سدرہ کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں وصل کی انتہائی حالت میں موجود تھا۔ دو جسم ایک دوسرے سے ٹکراتے تھے تو اُن کی آواز پورے کمرے میں سنائی دیتی تھی۔ اور پھر جیسے ندی بہہ نکلی۔ دونوں نے بستر کی چادر کو اچھا خاصا گیلا کردیا تھا لیکن جذبات کا طوفان تھمنے کا نام نہ لیتا تھا۔ رومی کچھ دیر کے لیے سدرہ کے اوپر ہی دراز ہوگیا۔
پھر جگہیں بدلنے لگیں۔ کبھی کوئی اوپر تو کبھی کوئی نیچے۔ ایک طویل سفر طے کرکے پہنچنے والا طوفان اتنی جلدی کیسے تھم سکتا تھا۔ یوں ہی کافی وقت گزر گیا۔ دونوں جسم پیار کی پھوار میں بھیگے پڑے تھے۔ سدرہ نے ہمت کی اور رومی کا ہاتھ تھام کرکے غسل خانے میں لے آئی۔ دونوں جسموں پر پانی بہنے لگا اور جیسے جیسے پیار کا گزشتہ رنگ اترا، نیا رنگ چڑھنے لگا۔ رومی کا جی چاہا کہ سدرہ کو اب کبھی لباس زیب تن نہ کرنے دے لیکن ایسا ممکن نہیں تھا۔ اُس نے اپنے ہاتھوں سے سدرہ کو لباس پہنایا اور اس بہانے اُس کے جسم کو محسوس کرتا رہا۔ رومی کے لمس نے سدرہ کی سانسوں کو بے ترتیب کیے رکھا۔ اور جب رومی رخصت ہوا تو سدرہ کی آنکھوں میں دوبارہ ملاقات کا دعوت نامہ واضح نظر آرہا تھا۔